11

سوچ کا زاویہ ۔۔۔ تحریر : عائشہ نذیر ۔ منڈی بہاوالدین

ٹی وی پر نیوز ہیڈ لائن میں بتایا جاتا ہے کہ لاہور میڈیکل کالج کی لڑکی کے ساتھ چھیڑ خوانی کی گئی۔
اور ہم کیا کرتے ہیں؟۔۔۔ افسوس کرتے ہوئے چینل بدلتے ہیں اور کچھ ٹائم بعد ہمارے دل میں افسوس ہونا دور کی بات،یہ بات ہمیں یاد بھی نہیں ہوتی۔ اور یہ سوچتے ہیں کہ آخر اس میں ہم بھی کیا کر سکتے ہیں۔ اور یہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں کہ ہم پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں رہتے ہیں جہاں لڑکیوں کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ اس کے علاوہ ہم بہت سی باتیں کرتے ہیں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ ایسا ملک جس میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ وہ مسلمان جن کا دین اسلام ہے ایسا ملک جس میں عورت کو اعلیٰ مقام حاصل ہے۔

ارے۔۔۔ جو لوگ اپنے دین کو ہی بھول جائیں وہ کیسے اللہ کے عذاب سے بچ سکتے ہیں۔ اور آخرکار یہ سوچ کر ٹی وی بند کر دیا جاتا ہے کہ اب اس ملک کا کچھ نہیں ہوسکتا۔ اور پھر حکمرانوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے کہ جس ملک کے حکمران اتنے لاپرواہ ہو اس ملک کو ختم ہونے سے اللہ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ اور پھر ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے موقع پر باتیں کرنا ہی ہماری ذمہ داری ہے۔ باتیں ختم، ذمہ داری ختم، اور بس۔۔۔۔۔

آخر ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اس کے ذمہ دار حکمران نہیں ہم خود ہیں۔ ملک حکمران اور حکمرانی سے نہیں، عوام سے بنتا ہے۔ اب اگر ہم اپنے گھر کی لڑکیوں کو یہ ہی سکھائیں گے کہ نظریں تمہاری نیچی رہنی چاہیے تمہاری غلطی ہو یا نہ ہو۔ تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط ہوتا بھی ہے تو آواز نہ اٹھاؤ کیونکہ اگر عزت ایک بار چلی جائے تو واپس نہیں آتی۔ آپ کو نہیں لگتا کہ ہم غلط ڈریکشن میں مُووّکر رہے ہیں۔ کیوں نہ ہم لڑکیوں کو غلط ہونے پر خاموش رہنے کے بجائے کچھ ایسا سیکھائیں کہ وہ اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھا سکیں۔

ہم ان کو نظریں نیچی کر کے چلنا سکھائیں لیکن صرف اس لیے کہ اس کا حکم ہمارے دینِ اسلام نے دیا ہے۔ انہیں یہ سکھائیں کہ ظلم پر خاموش نہیں رہا جاتا۔ آواز اُٹھاؤ اپنے حق کے لیے، اپنی عزت کے لیے۔ انہیں بتاؤ غلط آپ نہیں، غلط وہ ہے جس نے غلط کیا۔ اس کو اس کی غلطی کی سزا دو۔ اگر ہم لڑکیاں ڈرنا چھوڑ کر اس کے خلاف لڑنا شروع کر دیں تو حالات کئی گُناّ بہتر ہوجائیں گے۔

ہم یہ سوچ کر چپ کیوں رہیں کہ اگلا طاقتور ہے۔ اس میں بدنامی تو ہماری ہی ہوگی آخر ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ سب سے طاقتور ذات تو اللہ کی ہے۔ وہ ذات جو سب دیکھ رہی ہے ہم ظلم کے خلاف آواز اُٹھائیں تو وہ ذات جو بصیر ہے وہ ہماری مدد ضرور کرے گی۔ لیکن آواز تو ہمیں ہی اُٹھانی ہوگی۔ پہل ہمیں ہی کرنی ہوگی۔ یہ کام ہمارے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ اس لئے اُٹھو اور جہاں کچھ غلط ہو اس غلط کو ختم کرنے کے لیے تیار رہو۔

ہمیں اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اب میں یہ آپ سب والدین پر چھوڑتی ہوں کہ آپ نے اپنی بچیوں کو ڈر کی چادر اوڑھا کر ان کے سر کو جھکانا ہے یا پھر انھیں تیار کرنا ہے اپنی عزت، اپنے حق کے لئے لڑنے کے لیے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں