3

پی آٸی سی انکواٸری رپورٹ پر اعتراضات اٹھنے لگے

لاہور(کراٸم رپورٹر) لاہور سانحہ پی آئی سی میں پولیس افسران کے خلاف ہونے والی انکوائری رپورٹ پر اعتراضات اٹھنے لگے. سانحہ پی آئی سی بڑے آفسران کو بچا لیا گیا. انکوائری کمیٹی نے ایس ایس پی آپریشنز اور ایس پی سول لائنز کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا. انکوائری کمیٹی میں دیگر پہلووں کو شامل نہ کرنے پر اعتراضات اٹھنا شروع ہو گئے. وکلا اور ڈاکٹرز کی لڑائی میں ملزمان کی گرفتاری نہ ہونا سانحہ کی وجہ بنا جس کوانکوائری کا حصہ نہ بنایا گیا. انویسٹی گیشن ونگ کی جانب سے وکلا کو ملزمان کی گرفتاری کے جھوٹے دلاسے دیئے گئے جس کے باعث وکلا تعیش میں آئے. وکلا کے احتجاج کے دوران وائرلیس پر اطلاع دی گئی کہ ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں. اگلے روز سیشن کورٹ اور ماڈل ٹاون کورٹ سے بھی ملزمان کو پیش کرنے کی وائرلیس پر احکامات جاری ہوئے. 30 نومبر کو وکلاکا پی آئی سی میں ادویات لینے پرجھگڑا ہوا تھا. وکلا کی جانب سے اس واقعہ کا مقدمہ تھانہ شادمان میں درج کروایا گیا. وکلا نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چار احتجاج کیے. وکلا کے احتجاج کے دوران وائرلیس پر ملزمان کی گرفتاری کا غلط تاثر دیا گیا. انکوائری کمیٹی نے وائرلیس کا ریکارڈ بھی انکوائری کا حصہ نہ بنایا. پی آئی سی پر حملے سے دو روز قبل ڈی ائی جی انویسٹی گیشن اور ڈی ائی جی آپریشنز نے دونوں پارٹیوں کی صلح بھی کروائی تھی. صلح کروانے والے پی آئی سی حملے سے پہلے موقع پر ہی نہ پہنچے پولیس. صلح کے بارے میں باقی وکلا کو بروقت اطلاع نہ دی گئی جس کی وجہ سے ہی آئی سی پر حملہ ہوا. ایس ایس پی آپریشنز وکلا کے نکلنے کے ساتھ ہی انویسٹی گیشن ونگ کے افسران کو فون کرتے رہے لیکن انہوں نے فون ہی نہ سنا. ایس ایس پی آپریشنز اور ایس پی کو قصور وار ٹھہرانے پر پی ایس پی چیپٹر بھی سرگرم ہو گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں