خادم انسانیت صوفی محمد حسین نقیبی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے

انہوں نے ہمیشہ توحید اور عشق رسول کی تبلیغ کی اور ختم نبوت کے صف اول کے کارکن کی حثیت سے کام کیا۔

یورپ(چیف اکرام الدین)بین الاقوامی گلوبل ٹائمز میڈیا رپورٹ کے مطابق خادم انسانیت صوفی محمد حسین نقیبی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے خادم انسانیت صوفی محمد حسین نقیبی مورخہ 18 نومبر کو تقریبا 105 سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کا تعلق آزاد کشمیر کے ایک گاوں منجومان، نیریاں شریف ضلع سدھنوتی آزاد کشمیر سے تھا۔ آپ پاکستان بننے سے پہلے برٹش آرمی سے منسلک رہے اور آپ نے پہلی جنگ عظیم، جنگ عظیم دوئم میں حصہ لیا جس کے دوران آپ نے اٹلی، یونان، مصر، جرمنی، ترکی، ملائشیا،بنگلہ دیش، ،ہندوستان اور دیگر ممالک کا سفر کیا۔جب پاکستان بنا تو اس وقت آپ کو پنجاب میں انڈیا پاکستان بارڈر پر تعنیات کیا گیا اور امن و امان قائم کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔جو آپ نے اپنی پلٹون کے ساتھ مل کر بخوبی انجام دیا۔آپ مشہور صوفی بزرگ جناب خواجہ خواجگان فقیر صوفی نقیب اللہ شاہ حسنی، جہانگیری، قادری کے مرید اور خلیفہ تھے۔ آپ نے کسی سکول یا مدرسہ سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی لیکن فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ صاحب کی صحبت میں رہتے ہوئے آپ نے دین اور دنیا دونوں کی تعلیم حاصل کی۔ اردو پڑھنا اور لکھنا سیکھی اور قرآن کریم کی تجوید اور تلاوت بھی بابا جی نقیب اللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ اور انکے مریدین کی صحبت میں رہ کر سیکھی۔ آپ نے 1965 اور 1971 کی پاک انڈیا جنگوں میں باقاعدہ حصہ لیا اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آبائی گاوں منجومان، نیریاں شریف واپس تشریف لے گئے اور وہاں مخلوق کی خدمت کا اغاز کیا۔کیتھی باڑی اور زمینداری کو اپنا ذریعہ معاش بنایا اور ساتھ ہی ساتھ پاس ہی موجود ایک سرکاری سکول میں بلا معاوضہ بچوں درس قرآن دیتے رہے۔ بعد ازاں گاوں والوں کے ساتھ مل کر اپنے گاوں کی پہلی مسجد کی تعمیر شروع کی اور اس مسجد میں باقاعدگی کے ساتھ پانچ وقت کی اذان دیتے رہے اور جماعت کرواتے رہے۔ نیز اپنے مرشد کے حکم کے مطابق باقاعدگی کے ساتھ ہر جمعرات اور ہر مہینے کی گیارہوں کو باقاعدہ ختم خواجگان اور محفل ذکر کرتے اور حسب توفیق لنگر کا انتظام بھی کرتے رہے۔اسی دوران انکے مرشد جناب فقیر نقیب اللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے نقیب آباد شریف ضلع قصور میں جامع مسجد سنہری کی تعمیر کا آغاز کیا۔آپ نے حسب توفیق وہاں بھی مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا اور خود وہاں جا کر مستری اور مزدوروں کے ساتھ کام کیا۔ انکے مرشد کریم جناب فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ ہر سال نقیب آباد شریف میں جشن جہانگیری کے نام سے ایک عالمگیر اجتماع کا اہتمام کرتے تھے جو آج بھی منعقد ہوتا ہے۔جب تک آپکی صحت نے آپکا ساتھ دیا آپ ہر سال باقاعدگی سے اس میں شرکت کرتے رہے اور اس میں بھر پور طریقے سے نظام و انتظام میں حصہ بھی ملاتے۔جب حالات معاش بہتر ہوئے تو آپ نے اپنے ارد گرد موجود بیواوں ،یتیموں اور مسکینوں کی ایک فہرست مرتب کی اور اپنی جیب سے اس فہرست کے لوگوں کو زکوۃ، صدقہ یا خیرات میں سے دیتے بعد ازان انکی اولاد نے بھی ان کے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا اور یہ نظام اب بھی انتہائی شفاف طریقے سے چل رہا ہے۔آسکے علاوہ آپ نے گاوں لوگوں میں دینی اور دنیاوی علم کی شمع روشن کی، اور لوگوں کو ترویج کی کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیعت کریں اور انھیں اچھے اسکولوں یا مدارس میں داخل کروائیں تاکہ انکا مستقبل روشن ہو۔آپکی ہی کوششوں سے گاوں میں موجود سرکاری پرائمری سکول کو مڈل کا درجہ ملا اور اساتذہ کی تعداد ایک سے بڑھا کر چار کی گئی۔ گو کہ اب وہان طلباء کی تعداد کم ہے لیکن مڈل سکول کے لحاظ سے اساتذہ کی تعداد اب بھی کم ہے۔آپ نے ہمیشہ توحید اور عشق رسول ﷺ کی تبلیغ کی اور ختم نبوت کے صف اول کے کارکن کی حیثیت سے کام کیا۔اورجب جب دشمنان ختم نبوت کی جانب سے عقیدہ ختم نبوت پر حملہ کیا، آپ اپنی استطاعت سے بڑھ کر ان کے خلاف جواب دیا اور لوگوں کو مقام مصطفی ﷺ اور ختم نبوت کے حوالے سے علم کی تبلیغ کی۔آپ نے دین کے میدان میں عملی طور پر کام کیا جسکا ثبوت گاوں منجوماں اور اس کے قرب و جوار میں موجود کئی مساجد ،جائے نماز اور مدارس ہیں۔ جامع مسجد غوثیہ نیو ٹنگی گلہ اور اس سے متصل مدرسہ اسکی واضح مثال ہے۔آپ ایک باعمل صوفی، اور شریعت و طریقت کے پابند ولی تھے۔آپ انتہائی شریف اور سادہ طبیعت کے مالک تھے اور ہمیشہ اللہ کی رضا میں راضی رہتے۔آپ ہمیشہ اپنے معتقدین کو یہ تلقین کرتے کہ جو ہوتا ہے اس میں اللہ کی رضا ہوتی ہے اور جس امر میں اللہ کی رضا وہ اس میں دین و دنیا کی بھلائی ہوتی ہے۔دور دور سے لوگ آپ سے دینی و دنیاوی امور کے حوالے سے مشورہ لینے آتے اور آج تک کوئی بھی خالی ہاتھ نہں لوتا۔آپ متقی اور پرہیز گار شخصیت کے مللک تھے۔ جسکی گواہی آپکے تمام شاگرد اور عقیدت مند دیتے ہیں۔آپ نے باقاعدہ کبھی کسی کو مرید نہیں کیا جو بھی آپ سے بیعت کا طالب آیا آپ اسے اپنے مرشد کے روبرو پیش کرتے اور ان سے اسکی بیعت کرواتے۔اور ان لوگوں میں بہت سارے لوگ آج مختلف شعبہائے زندگی میں ایمانداری، محنت اور لگن سے اپنی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔علم و عمل کا یہ باب آج بند ہو گیا لیکن جانے سے پہلے آپ نے ایک تاریخ رقم کر دی ہے جس کو ایک طویل عرصہ تک فراموش نہیں کیا جا سکے گا اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ صوفی محمد حسین نقیبی صاحب کے درجات بلند کرے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلی مقام پر فائز کرے اور ان کے صدقے وسیلے سے ہمارے گناہوں کی بھی بخشش کرے اور ہمیں ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں