متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات کے معاہدے کے بعد آج اہم ملاقات

دبئی: متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات کے معاہدے کے بعد آج اہم ملاقات ہوگی۔

عرب خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی اور امریکی حکام آج متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات کے معاہدے پر حتمی پیشرفت کے لیے ابو ظبی پہنچیں گے۔ عرب میڈیا کے مطابق وفد کی سربراہی امریکی صدر ٹرمپ کے سینئر مشیر جیرڈ کشنر کریں گے جب کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر، اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر اور سربراہ اسرائیلی قومی سلامتی کونسل وفد میں شامل ہوں گے۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کا یہ وفد تل ابیب سے کمرشل پرواز کے ذریعے روانہ ہوگا جو تاریخ میں پہلی مرتبہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان پہلی کمرشل پرواز ہوگی۔
امریکی صدر کے مشیر جیرڈ کشنر کا کہنا ہے کہ دیگر عرب اور مسلم ممالک اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے جلد متحدہ عرب امارات کی پیروی کریں گے۔ جیرڈ کشنر نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے کو اگلی سمت کی جانب ایک عظیم قدم قرار دیا۔ عرب میڈیا کے مطابق تل ابیب سے ابو ظبی کے لیے اسرائیل کی پہلی کمرشل پرواز LY971 مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے دس بجے روانہ ہوگی جو تقریباً تین بجے ابوظبی پہنچے گی جب کہ پرواز کی واپس اسرائیل روانگی منگل کے روز ہوگی۔

عرب امن منصوبہ کیاہے؟

خیال رہے کہ 2002ء میں اس وقت کے سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے بیروت میں ایک امن منصوبہ میں پیش کیا تھا جس کے مطابق عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار تھے تاہم اس کے لیے شرط یہ تھی کہ اسرائیل اپنی سرحد 1967ء میں ہونے والی جنگ سے پہلے والی حدود تک واپس لے جائے۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات قائم کرنے کے لیےامن معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت اسرائیل مزید فلسطینی علاقے ضم نہیں کرے گا اور دو طرفہ تعلقات کے لیے دونوں ممالک مل کر روڈ میپ بنائیں گے۔ معاہدے کے مطابق امریکا اور متحدہ عرب امارات، اسرائیل سے دیگر مسلم ممالک سے بھی تعلقات قائم کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے، اسرائیل سے امن کرنے والے ممالک کے مسلمان مقبوضہ بیت المقدس آ کر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھ سکیں گے۔ پاکستان نے بھی فلسطینیوں کو ان کا جائز حق ملنے تک اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا امکان رد کردیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں