36

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال شکرگڑھ کا گائنی وارڈ پرائیویٹ ہسپتالوں کا بکنگ آفس بن گیا

شکر گڑھ: (ہیلتھ رپورٹر) تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال شکرگڑھ کا گائنی وارڈ پرائیویٹ ہسپتالوں کا بکنگ آفس بن گیا
تفصیلات کے مطابق شکرگڑھ کے اکلوتے ہسپتال میں آنے والوں مریضوں کو سرکاری ہسپتال میں ڈلیوری کروانے کی بجائے اپنے پرائیویٹ کلینک میں ڈلیوری کروانے کا کہا جاتا ہے یا پھر یہ بہانا بنایا جاتا ہے کہ سرکاری ہسپتال میں بچوں کی نرسری نہیں آپ کے ہونے والے بچے کی جان کو خطرہ ہے آپ اسے نارووال لے جائیں کرونا کا بہانہ بنا کر نارمل چیک کروانے والے مریضوں کو چیک کئے بغیر ہی واپس بھیج دیا جاتا ہے
ذرائع کا کے مطابق سرکاری ہسپتال میں تعینات لیڈی ڈاکٹرز نے اپنے پرائیویٹ کلینک بنا رکھے ہیں اور صبح 8 بجے کی بجائے 10 سے 11 بجے ڈاکٹر سرکاری ہسپتال ڈیوٹی پر آتی ہیں اور چھٹی کے وقت سے پہلے ہی سرکاری ہسپتال کی بجائے پرائیویٹ کلینک پہنچ جاتی ہیں ۔
اس کے علاؤہ الٹرا ساؤنڈ جو سابقہ حکومت میں مفت کی جاتی تھی نئی حکومت نے سرکاری فیس 150 روپے مقرر کی ہے گائنی وارڈ میں تعینات عملے اور لیڈی ڈاکٹرز کی ملی بھگت سے کئی مریضوں سے 500 روپے سے 1000 ہزار روپے لئیے جاتے اور ان کی پہلے الٹراساؤنڈ کی جاتی اور سرکاری خزانے میں 150روپے بھی جمع نہیں کروائے جاتے ہیں.
شہریوں نے اسسٹنٹ کمشنر شکرگڑھ وقار اکبر چیمہ اور ڈپٹی کمشنر نارووال سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں