51

انڈیا: لاک ڈاون میں پیسوں کی قلت سے ممبئی کے کپڑا مزدور کا برا حال، 1400 کلو میٹر پیدل گھر جانے کو مجبور

یہاں بھوکوں مرنے سے بہتر ہے گائوں میں مرجائوں۔مزدور طبقہ

لاک ڈاون میں پیسوں کی قلت سے ممبئی کے کپڑا مزدور کا برا حال، 1400 کلو میٹر پیدل گھر جانے کو مجبور

ممبئی(چیف اکرام الدین)لاک ڈائون کی وجہ سے روزی روٹی جانے کا ڈر ممبئی میں وڈالا کی سنکری گلی تک پہنچ گیا ہے۔ یہاں چھوٹی ٹیکسٹائل یونٹ میں کام کرنے والے اترپردیش کے تقریباً دو ہزار کاریگروں نے کھانے اور پیسے کی قلت کی وجہ سے اپنے گھروں کو جانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ مزدور اب پیدل ہی 1400 کلو میٹر کا سفر طے کریں گے۔ بتادیں کہ لاک ڈائون کے بعد سے ملک بھر سے مزدوروں کی پیدل واپسی کی تصویریں آرہی ہیں یہ مزدور پیدل ہی اپنے گھروں کی جانب نکل پڑے ہیں۔رفیع احمد قدوائی مارگ میں چھوٹے پیمانے والی اکائی میں کام کرنے والے اترپردیش کے مجبور مزدور یونٹ کے بند ہوجانے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ یونٹ 20 دن قبل ہی بند ہوچکی ہے، کاریگروں کو مالکوں نے ان سے کہا تھا کہ اگر وہ اپنی کھولی کا کرایہ دیتے ہیں تو انہیں کھانا وغیرہ دے دیاجائے گا۔ تین ہفتے تک یہ سلسلہ جاری رہا او رمالکان کی طرف سے انہیں کھانا وغیرہ ملتا رہا، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ اسٹاک کی کمی کی وجہ سے یہ چیریٹی جاری نہیں رکھ پائیں گے، یہ ٹیکسٹائل ورکر مہینے میں پندرہ سے بیس ہزار روپئے کماتے ہیں، اب یہ سبھی اپنے گھر اترپردیش لوٹناچاہتے ہیں، انہیں اپنے بوڑھے ماں باپ اہلیہ اور بچوں کی فکر ہورہی ہے۔ایک کاریگر رفیق شیخ کانپور جانے کےلیے تیار ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس صرف پانچ ہزار روپئے بچے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ یہاں رہ کر پریشان ہوجائوں، اور جوپیسے بچے ہیں وہ خرچ ہوجائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سب کچھ بند ہے اگر کوئی ہماری مدد کو آگے نہیں آیا تو ہم پیدل ہی چلے جائیں گے ۔ ان کے روم میٹ کہتے ہیں کہ یہاں بھوک مرنے سے زیادہ گائوں میں مرنا بہتر رہے گا۔ 300 ہول سیل ڈیلر والے ایمپلائر ایسوسی ایشن نے کچھ دن قبل کاریگروں کو کھانا کھلانے کےلیے مارکیٹ پیلس پر ہی ایک کچن بنایا تھا، نیشنل مارکیٹ کے صدر یاسین شیخ کہتے ہیں کہ ایسوسی ایشن کے پاس مہینوں تک کھانا کھلانے کےلیے فنڈ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ لاک ڈائون نے ہمیں معذور کردیا ہے، ہمارا سب کچھ ختم ہوچکا ہے، لاک ڈائون کے وقت ہول سیل میں سامان لینا بھی مسئلہ بن گیا ہے 200 مزدوروں کو کھلانے کےلیے بڑی مقدار میں سامان کی ضرورت ہے جو واشی میں اے پی ایم سی مارکیٹ سے ہی مل سکتا ہے لیکن پولس ہمیں وہاں جانے نہیں دے رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں